13 جولائی 2012 - 19:30

شام کے تريمسہ نامي گاؤں ميں عام شہريوں کے قتل عام ميں ملوث متعدد دہشتگردوں نے اپنے گھناؤنے جرم کا اعتراف کرليا ہے.

ابنا: شام کي سرکاري خبررساں ايجنسي کے مطابق مغربي صوبے حما کے  تريمسہ گاؤں ميں عوامي قتل عام کے الزام ميں گرفتار بعض دہشتگردوں نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ  تين سو مسلح افراد نے مذکورہ گاؤں پر اچانک حملہ کيا تھا  ليکن شامي فوجي نے بڑي تيزي کے ساتھ کاروائي کي جس سے دہشتگرد حواس باختہ ہوگئے تھے-

اس رپورٹ کے مطابق مسلح افراد نے اس بات کا بھي انکشاف  کرتے ہوئے  کہ ترکي شام ميں سرگرم مسلح گروہوں کي زبردست مالي حمايت کر رہا ہے، کہا کہ تريمسہ گاؤں پر کئے جانے والے مسلح حملے ميں دہشتگردوں کو سرکاري عمارتوں کے اطراف ميں قائم رہائشي مکانات کو بموں سے تباہ کرنے کا مشن سونپا گيا تھا ليکن شامي فوج کي بروقت کاروائي نے انکي يہ کوشش ناکام بنادي-

ان دہشتگردوں کے اعتراف کے مطابق مسلح افراد نے عوام کے قتل عام کے لئے ہرقسم کا اسلحہ استعمال کيا تھا جس ميں آٹو ميٹک رائفليں، آرپي جي  اور بم وغيرہ شامل ہيں-

يہاں اس بات کا ذکر ضروري ہے کہ غير ملکي حمايت يافتہ شامي دہشتگردوں نے جمعرات کو  تريمسہ گاؤں پر حملے کے دوران ايک سو پچاس افراد کو قتل کرديا تھا جن ميں بڑي تعداد ميں عورتيں اور بچے شامل ہيں - شام کے بارے ميں سلامتي کونسل کے اجلاس سے قبل کئے جانے والے اس بھيانک قتل عام کا مقصد شام ميں  غير ملکي فوجي مداخلت کے لئے عالمي رائے عامہ کو بھڑکانا تھا-دوسري جانب اطلاعات ہيں کہ شامي فوج نے  ملک ميں امن و امان کے قيام کي کوشش جاري رکھتے ہوئے حلب شہر کے  نواحي علاقے دارہ عزہ ميں دہشتگردوں کي چھے گاڑياں تباہ کردي ہيں -

شامي فوج نے لبنان کي سرحد سے حمص شہر ميں دہشتگردوں کي دراندازي کي ايک کوشش کو بھي ناکام بناديا ہے،-  سرکاري خبررساں ايجنسي کے مطابق عوام کي فراہم کردہ اطلاعات کے بعد شامي فوج کے انٹيلي جينس ونگ نے حمص کے  نواحي علاقے القصير ميں چھاپہ مار کر دہشتگردوں کے لئے لايا گيا اسلحہ اور گولہ باردو برآمد کرليا ہے-

شامي فوج  کي انجينيئرنگ کور نے حما شہر کے قريب ايک پل کو دھماکے سے تباہ کرنے کي کوشش بھي ناکام بنادي ہے اور پل پر نصب کئے گئے دو بموں کو ناکارہ بناديا ہے-

کہا جارہا ہے کہ دو مسلح دہشتگرد، حلب حمص شاہراہ پر اس وقت ہلاک ہوگئے جب وہ بم ايک جگہ سے دوسري جگہ منتقل کر رہے تھے جو دھماکے سے پھٹ گئے-   

 ادھر شام کي وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے خصوصي نمائندے کوفي عنان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو تعميري  قرار ديا ہے-شامي وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد مقدسي نے کوفي عنان کي تجاويز کو جامع قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ صدر بشار اسد کي حکومت کو پوري اميد ہے کہ انکي تجاويز پر عملدرآمد سے ملک ميں استحکام کے قيام ميں مدد ملے گي-

انہوں نے کہا کہ ان کي حکومت کو ملک ميں اصلاحات سے کوئي خوف لاحق نہيں ہے  تاہم ملک کوجس بحران کا سامنا ہے اس کي  دانشمندانہ راہ حل تلاش کئے جانے کي ضرورت ہے، ايسا حل جس ميں شامي عوام کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے، مغربي ملکوں کے مفادات کو نہيں-  انہوں نے کہا کہ شام کو روس اور اس کي تجاويز پر پورا بھروسہ ہے  ليکن تاحال ماسکو  نے شام کے بحران کے حل کے حوالے سے کوئي  منصوبہ پيش نہيں کيا ہے....... /169